جمعہ 16 اکتوبر 2026 - 13:06
راہِ خدا میں انفاق، وقف کی حفاظت اور صدقۂ جاریہ ہی آخرت کی حقیقی کامیابی ہے، مولانا سید علی سجیر رضوی

حوزہ/ جھارکھنڈ کے شہر حسین آباد کی شیعہ عیدگاہ میں نمازِ جمعہ کے خطبے کے دوران امام جمعہ مولانا سید علی سجیر رضوی نے حقیقی نیکی، راہِ خدا میں انفاق، صدقہ و خیرات اور وقف کی اہمیت بیان کرتے ہوئے وقف کی زمین پر ناجائز قبضے کو گناہِ کبیرہ قرار دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جھارکھنڈ کے شہر حسین آباد کی شیعہ عیدگاہ میں نمازِ جمعہ کے خطبے کے دوران مولانا سید علی سجیر رضوی نے سورۂ آل عمران کی آیت نمبر 92 کی تلاوت کرتے ہوئے اس کے مفہوم کی وضاحت کی۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ انسان اس وقت تک حقیقی نیکی کے اعلیٰ مقام تک نہیں پہنچ سکتا، جب تک اپنی محبوب ترین چیزوں میں سے راہِ خدا میں خرچ نہ کرے۔

مولانا سید علی سجیر رضوی نے آیت کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ حقیقی نیکی اور ایثار یہ ہے کہ انسان اپنی عزیز ترین چیزوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے قربان کرنے کا جذبہ رکھے۔ انہوں نے رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بہترین صدقہ وہ ہے جو انسان صحت و تندرستی کی حالت میں اور مال سے محبت کے باوجود اللہ کی راہ میں پیش کرے۔

انہوں نے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے فرمان کی روشنی میں ایمان، توکل اور اعتماد علی اللہ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ انسان کو ظاہری وسائل کے بجائے اللہ تعالیٰ کی قدرت پر کامل بھروسہ رکھنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب دنیاوی مال و دولت کی محبت انسان کے دل پر غالب آجاتی ہے تو وہ مختلف آزمائشوں میں مبتلا ہوسکتا ہے؛ اس لیے دل کو دنیا کی محبت کی قید سے آزاد کرنے کا ایک اہم ذریعہ راہِ خدا میں انفاق ہے۔

امام جمعہ حسین آباد نے مومنین کو صدقہ، خیرات اور وقف کی اہمیت کی جانب متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایسے نیک اعمال ہیں جن کے ثمرات انسان کی وفات کے بعد بھی جاری رہ سکتے ہیں۔ اسلام انسان کو بخل سے بچنے اور اپنے مال میں سے غریبوں، مسکینوں اور فلاحی کاموں کے لیے حصہ مختص کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔

خطبے کے دوران مولانا سید علی سجیر رضوی نے وقف کے شرعی احکام کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وقف کا مقصد اصل جائیداد کو محفوظ رکھتے ہوئے اس کے منافع کو مقررہ دینی، فلاحی اور عوامی مقاصد کے لیے استعمال کرنا ہے۔ انہوں نے وقف کی زمین پر ناجائز قبضے اور غصب کی شرعی حرمت بیان کرتے ہوئے اسے گناہِ کبیرہ قرار دیا اور اس سے اجتناب کی تاکید کی۔

آخر میں انہوں نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس وعید کا حوالہ دیا کہ جو شخص ناحق کسی دوسرے کی ایک بالشت زمین بھی غصب کرے گا، قیامت کے دن اسے ساتوں زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔

خطبۂ جمعہ کے اختتام پر مومنین کی سلامتی، عافیت اور امام عصر حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہورِ پُرنور کے لیے دعا کی گئی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha